جوئیڈا، 16 / جون (ایس او نیوز) تعلقہ کے رام نگر پولیس تھانے کے افسران کی طرف سے ہراسانی کا الزام لگاتے ہوئے کُونبی سماج کے جس نوجوان نے پولیس اسٹیشن کے احاطے میں اپنے جسم پر پٹرول چھڑک کر خود سوزی کی تھی ، اس نے بیلگام کے اسپتال میں دم توڑ دیا ۔ جس کے بعد قصوروار پی ایس آئی اور عملے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کُونبی سماج کے افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔
خیال رہے کہ رام نگر کے ہنومان گلی میں رہنے والے بھاسکر بندولکر نے 13 جون کو پولیس اسٹیشن کے احاطے میں خود سوزی کی تھی اور جب اسے سنگین زخمی حالت میں بیلگاوی کے کے ایل ای اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تو اس نے ویڈیو کلپ ریکارڈ کی تھی جس میں رام نگر تھانے کے پی ایس آئی بسوا راج موبانور پر الزام لگایا تھا کہ پی ایس آئی کی طرف سے کی جا رہی ہراسانیوں سے تنگ آ کر اس نے خود سوزی کے ذریعے مرنے کا اقدام کیا ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ کچھ مہینے قبل پی ایس آئی بسوا راج نے جوا بازی کے الزام میں بھاسکر کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ بھاسکر نے بعد میں پولیس پر الزام لگایا تھا کہ جوے کے اڈے پر چھاپہ ماری کے وقت پولیس نے 3.60 لاکھ روپے کیے تھے مگر معاملہ درج کرتے ہوئے ریکارڈ میں صرف 36 ہزار روپے دکھائے گئے ہیں ۔ بھاسکر کا کہنا ہے کہ اس بات سے ناراض ہو کر پی ایس آئی بسوا راج نے اس پر ظلم و ستم کیا ہے ۔
کہتے ہیں کہ 13 جون کو جب بھاسکر زمین سے متعلقہ کسی معاملے میں پولیس اسٹیشن گیا تھا تو پولیس افسران اور اس کے درمیان جھگڑا ہوگیا ۔ مبینہ طور پر نشے کی حالت میں آئے ہوئے بھاسکر وہاں سے نکل جانے کے لئے کہا گیا ۔ اس بات سے ناراض ہو کر بھاسکر نے پولیس اسٹیشن کے باہر جا کر اپنے آپ پر پٹرول چھڑکتے ہوئے خود کو آگ لگائی تھی ۔
بیلگاوی اسپتال میں بھاسکر بندولکر کی موت کے بعد مقامی عوام اور کُونبی سماج کے لیڈروں نے رام نگر کے شیواجی سرکل کے پاس زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور متاثرہ خاندان کے لئے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی پولیس کی جانب سے کی گئی زیادتیوں کی مذمت کی۔ احتجاجی مظاہرین نے بھاسکر کی موت کی تحقیقات، اس واقعے کا سبب بننے والے پولیس افسران کی معطلی ، قصور وار پولیس افسران اور عملے کے خلاف کٹھن کارروائی کے مطالبات کے ساتھ ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر وشنو ردھن کو میمورنڈم پیش کیا ۔
اس موقع پر ضلع ایس پی ڈاکٹر وشنو وردھن نے رام نگر پولیس احاطے میں احتجاجی مظاہرین کو یقین دلایا کہ اس معاملے کی پوری تحقیقات کے بعد خطا کاروں کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی ۔